حکومت کی لوٹ مار ( جمیل مرغز)

Posted by M. Moosa Soomro Sunday, August 9, 2009

حکومت کی لوٹ مار ( جمیل مرغز)
ہفتہ مئی 16, 2009

پاکستانی عوام حیران ہیں کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کے باوجود عوام کو اس کا فائدہ نہیں پہنچایا جارہا ۔جب عالمی مارکیٹ میں تیل تھوڑا سا مہنگا ہوجاتا ہے تو ً حکومت فوراً تیل کی قیمتیں بڑھا دیتی ہے۔جب قیمتوں میں کمی کی بات آتی ہے تو خاموشی اختیار کر لیتی ہے۔حالانکہ حکومت نے یہ فارمولا خود ہی بنایا تھا کہ ملکی سطح پر تیل کی قیمتوں کا تعین بین الاقوامی مارکیٹ کے مطابق کیا جائے گا۔اکثر ترقی پذیر ممالک جس میں ہندوستان بھی شامل ہے نے بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ پہلے سے ہی عوام تک پہنچانے کے لئے تیل کی مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر دی ہے۔تیل کی زیادہ قیمتیں صنعت اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں کو بہت متاثر کرتی ہیں۔اس سے عام آدمی اور ملک کی معاشی صورت حال دونوں متاثر ہوتی ہیں۔سپریم کورٹ نے جسٹس (ر) بھگوان داس کی سر براہی میں ایک کمیشن قائم کیا ۔ تاکہ وہ تیل کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کاراور پٹرولیم کمپنیوں کی طرف سے ناجائز منافع خوری کے متعلق تحقیقات کرنے کے بعد اپنی رپورٹ سپریم کورٹ کو پیش کرے۔2005 میں پیپلز پارٹی کی سینیٹر رخسانہ زبیری ‘مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری ظفر اقبال جھگڑا اور دوسرے لوگوں نے سپریم کورٹ میں تیل کی قیمتوں میں ہیرا پھیری کے متعلق درخواستیں دی تھیں۔کتنے افسوس کا مقام ہے کہ اب ان پارٹیوں کی حکومت نے بھی جنرل مشرف والے فارمولے استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں۔اس لئے چیف جسٹس افتخار چودھری کو اس کیس کو الماری سے نکال کرکے اس کی سماعت کرنی پڑی۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ عوام نے ووٹ دے کر مسائل کے حل کے لئے پارلیمنٹ منتخب کی ہے۔لیکن لوگ اپنے مسائل کا حل سپریم کورٹ میں ڈھونڈتے ہیں۔ اس سے تو اچھا ہے کہ پارلیمنٹ کی چھٹی کی جائے۔
کمیشن نے اس دن سے تیل کی قیمتوں کے تعین کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔ جس دن سے آئل کمپنیز ایڈوائزری کمیٹی (OCAC)کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ تیل کی قیمتوں کا تعین کریں۔یہ اختیار 29جون2001سے یکم اپریل 2006 تک ان کے پاس تھا ۔اس کے بعد قیمتوں کے تعین کا اختیار آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (OGRA)کو دے دیا گیا۔ LPGاور CNG(گیس)کی عالمی قیمتوں کا جائزہ اور اس کے ساتھ ملک کے اندر ان کی قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار معلوم کرناحالانکہ یہ مصنوعات ملک کے اندر پیدا ہوتی ہیں۔مٹی کے تیل کی زیادہ قیمتیں‘پٹرول کی قیمتوں کی تعین کے لئے ایک نئی پالیسی کا قیام ‘پاکستان کو دوسرے ملکوں سے تحفے میں ملے ہوئے تیل کے متعلق معاملات ۔جب تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھیںاس وقت سعودی عرب نے لیٹ ادائیگی کی بنیاد پر پاکستان کو تیل دیا تھا۔ان مسائل کے بارے میں بھی مذکورہ کمیشن کو رپورٹ دینے کے لئے کہا گیا ہے۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI)کی پٹرولیم کے بارے میں سٹینڈنگ کمیٹی کے چےئر پرسن ملک خدا بخش نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’ہم کمیشن کے قیام کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور اس کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے۔پٹرول کے ڈیلروں کی حیثیت سے ہم بھی موجودہ پالیسی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ہمارے منافع کی شرح میں بھی کافی کمی کی گئی ہے۔حکومت صرف تیل کی مارکیٹنگ کمپنیوں کو فائدے پہنچا رہی ہے۔ ہم کمیشن کو مدعو کر یں گے ۔تاکہ وہ ہمارا نکتہ نظر بھی سن سکے‘‘۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت نے اشیاء ضروریہ کی قیمتوں کے بارے میں عوام کو کوئی ریلیف دینے کے لئے کوئی مضبوط قدم نہیں اٹھایا۔ مہنگائی اور افراط زر ابھی تک آسمان سے چھو رہے ہیں۔ حکومت مسلسل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو مہنگارکھ کر عوام پر مزید بوجھ ڈال رہی ہے۔آئی ایم ایف کے مطالبے پر حکومت نے مختلف اشیاء پر سبسڈیاں ختم کردیں ہیں۔ان میں ڈیزل اور مٹی کا تیل بھی شامل ہے۔فروری 2008میں عالمی سطح پر پٹرول کی قیمت 103.05ڈالر فی بیرل تھی ۔بیرل میں 42 امریکی گیلن یا 159لیٹر تیل ہوتا ہے۔جولائی میں یہ قیمت بڑھ کر 147.02ڈالر فی بیرل ہوگئی ۔قیمتوں میں یہ اضافہ 24.67 فی صد تھا ۔اس دوران پاکستان میں پٹرول کی قیمتیں53.70 روپے سے بڑھ کر 86.66روپے ہوگئی ۔اس حساب سے یہ اضافہ 61.38فی صد رہا ۔اس سے ایک بات ثابت ہوگئی کہ حکومت پاکستان عالمی مارکیٹ میںاضافے سے بھی کئی گنا زیادہ اضافہ کرتی رہی ہے۔
اگر ہم موجودہ حساب لگائیں تو فروری 2008میں پٹرول کی فی بیرل عالمی قیمت 103.05ڈالر تھی ۔اس وقت مقامی مارکیٹ میں تیل 53روپے فی لیٹر تھا۔آج کل عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت تقریباً 50ڈالر فی بیرل ہے(اس کا مطلب ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمت میں 50فی صد سے زیادہ کمی ہوئی ہے)۔آج کل ملکی مارکیٹ میں تیل تقریباً.70 58روپے فی لٹر دستیاب ہے۔ تیل کو اس تناسب سے سستا کرنے کی بجائے موجودہ قیمتیں فروری 2008 کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ مقرر کی گئی ہیں۔اس طرح عوام پر ایک ظالمانہ بوجھ ڈال دیا گیا جو پہلے سے ہی مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہیں۔ زیادتی تو یہ ہے کہ قیمتوں میں اضافے کے علاوہ حکومت جنرل سیلز ٹیکس اور پٹرول ڈیو لپمنٹ لیوی کی شکل میں بھی بہت بڑا منافع کما رہی ہے۔قومی احتساب بیورو (NAB) نے ایک رپورٹ تیار کی تھی جس میں 2003- 2006کے دوران پٹرول کی قیمت کے تعین میں 200 ارب روپے کے خرد برد کاانکشاف کیا گیا تھا ۔حکومت اس رپورٹ کو منظر عام پر لانے سے انکار کر رہی ہے۔سینٹ کی پٹرول اور قدرتی وسائل کے بارے میں سٹینڈنگ کمیٹی نے بھی اپنی ایک حالیہ اجلاس میں NAB کی تحقیقات اور اس کے نتائج کے متعلق جاننے کا مطالبہ کیا ہے۔اس کمیٹی نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بے تحاشہ کمی کے تناسب سے مقامی سطح پر تیل کی قیمت میں کمی کی مانگ بھی کی ہے۔موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا۔یکم مارچ2008سے پٹرولیم کی تمام مصنوعات کی قیمتیں بڑھا دی گئیں۔پٹرول کی قیمت 53.70 سے بڑھا کر 58.70فی لیٹر کر دی گئی۔اسی طرح مٹی کے تیل کی قیمت 35.23 روپے سے بڑھا کر38.73 روپے فی لیٹر کر دی گئی۔اگلے پندرھواڑے میں پھر تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا اور پٹرول کی نئی قیمت 62.81روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ۔اسی طرح وقفوں وقفوں میں حکومت قیمتوں میں اضافہ کر تی رہی۔ اونٹ کی پشت پر آخری تنکا حکومت نے اس وقت رکھاجب 21جولائی 2008کوحکومت نے پٹرول کی قیمت 75.69سے بڑھاکر ریکارڈ توڑ 86.66روپے فی لیٹر کردی ایک لیٹر میں یکدم 11روپے کے ریکارڈ اضافے نے عوام کی کمر توڑ دی ۔اس اضافے سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور دیگر چیزوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو گیا ۔اس موقع پر حکومت نے کہا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے یہ سخت فیصلہ کرنا پڑا۔OGRAنے ایک بیان میں کہا کہ حکومت نے اضافے کا تھوڑا سا حصہ عوام کو منتقل کیا ہے۔حکومت کا کہناتھا کہ2007-08 کے مالی سال کے دوران عوام کو پٹرول کی مصنوعات کی مد میں 165ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے۔اس کا کہنا تھا کہ یہ سبسڈی وہ عوام کے مفاد میں آئندہ بھی دیتی رہے گی ۔حکومت نے حساب لگایا کہ باوجود اس اضافے کے اب بھی حکومت مٹی کے تیل پر 33.93روپے ‘ لائٹ ڈیزل پر 29.40روپے اور ہائی سپیڈ ڈیزل پر 35.42روپے فی لیٹر سبسڈی دے رہی ہے۔
مرکزی حکومت کے تیار کردہ فارمولے کے مطابق آج کل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں OCACکی بجائے OGRAکی ذمہ داری ہے۔اس فارمولے کے مطابق پچھلے پندرھواڑے کے دوران خلیجی ممالک کی تیل کی قیمتوں کا اوسط ہی ہماری قیمتوں کی تعین کی بنیاد ہوتا ہے۔پٹرول ‘مٹی کے تیل اور ڈیزل کی ملکی سطح پر 29 تیل کے ڈپووں تک کرایوں کا حساب بھی اس میں شامل کر لیا جاتا ہے۔اس کے بعد حکومت کی طرف سے پٹرولیم کا ترقیاتی سرچارج اور جنرل سیلز ٹیکس شامل کرکے تیل کی قیمتوں کا تعین کیا جاتا ہے۔اس11 روپے کے اضافے کے بعد سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں مسلسل گر رہی ہیں۔اس ارزانی کا فائدہ حکومت نے عوا م کو منتقل نہیں کیا ۔اس کی بجائے حکومت نے IMFکے ساتھ طے کی گئی شرائط کے مطابق تیل کی مصنوعات پر سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔یکم دسمبر 2008سے موجودہ قیمتیں چل رہی ہیں۔موجودہ قیمتیں عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے بہت زیادہ ہیں۔ پٹرول پر ٹیکس 7فی صدی سے بڑھا کر 11 فی صد کر کے حکومت نے ایک اور زیادتی کی ۔
جسٹس (ر) بھگوان داس کمیشن نے اپنی عبوری رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کردی ہے۔ اس رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ چونکہ حکومت نے پٹرولیم کی مصنوعات میں کافی پیسے کما لئے ہیں۔جو ایک اندازے کے مطابق 20ارب روپے بنتے ہیں اس لئے حکومت کو چاہیے کہ وہ فوراً قیمتوں میں کمی کرے۔دوران سماعت چیف جسٹس افتخار چودھری نے ریمارکس دیے کہ غریب دھکے کھارہے ہیں۔عوام خوار ہو رہے ہیں جب کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس لگا کر اربوں روپے کما رہی ہے۔عدالت عالیہ نے حکم دیا ہے کہ ایک ہفتے کے اندر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی جائے ورنہ پھر عدالت خود کمی کا فیصلہ کرے گی ۔مزے کی بات یہ کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد قومی اسمبلی بھی اچانک جاگ اٹھی اور ممبران نے بھی حکومت سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل ر آمد کا مطالبہ کردیا ۔واہ رے منتخب نمائندگان قوم ۔ شرم تم کو مگر نہیں آتی ۔

0 comments

Post a Comment

Followers

Video Post