Posted by M. Moosa Soomro Sunday, August 23, 2009

سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحانات میں جعلسازی کا انکشاف

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) سندھ پبلک سروس کمیشن کے سال 2003ءکے امتحانات میں بڑے پیمانے پر جعلسازی کا انکشاف ہوا ہے جہاں کامیاب امیدواروں کی جگہ کمیشن کے عہدیداران اور سرکاری افسران کے قریبی رشتہ داروں کو فائنل رزلٹ میں ٹیمپرنگ کرکے کامیاب قرار دے دیا گیا۔ سندھ پبلک سروس کمیشن کی جانب سے سال 2003ءمیں مقابلے کے امتحانات میں گریڈ 16 اور17 کے لیے 2555 امیدواروں نے شرکت کی تھی جس میں 531 امیدوار تحریری امتحان میں پاس ہوئے اور انٹرویو کے بعد کل 77 امیدواروں کو کامیاب قرار دیا گیا۔ کامیاب نہ ہونے والے ایک نوجوان سلیم شیخ نے سندھ ہائی کورٹ میں کمیشن کے نتائج کو چیلنج کرتے ہوئے اس عمل میں بدعنوانی کے خلاف درخواست دائر کی جس کے بعد سندھ پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین کی جانب سے معاملے کی تحقیقات کے لیے 3 رکنی کمیٹی قائم کی گئی۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی نے اپنی تحقیقات اور کاپیوں کی دوبارہ چیکنگ کے بعد یہ انکشاف کیا ہے کہ 77 کامیاب امیدواروں میں کئی امیدوار مقابلے کے امتحان میں فیل ہیں لیکن ان کی کاپیوں میں ٹیمپرنگ کرکے انہیں کامیاب کیا گیا ہے جبکہ 2 امیدواروں آیان مصطفی بھٹو اور ڈاکٹر نثار اے لغاری کی کاپیاں غائب ہیں۔ رزلٹ میں بڑے پیمانے پر ٹیمپرنگ کے بعد فیل ہونے والے امیدواروں کو کامیاب قرار دیاگیا، پاس ہونے والے اس بیج میں بڑی تعداد سرکاری افسران کے بچوں کی ہے۔ اس پورے عمل میں سندھ پبلک سروس کمیشن کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ کنٹرولر امتحانات عمر زور کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ ذرائع کے مطابق 47 کامیاب قرار دیے جانے والے امیدوار فیل ہیں‘ ٹیمپرنگ کے بعد پاس ہونے والے یہ تمام امیدوار اس وقت اہم سرکاری عہدوں پر فائز ہیں۔ ذرائع کے مطابق انکوائری کمیٹی کی سفارش میں کہا گیا ہے کہ انکوائری کے حقائق کی روشنی میں سال 2003ءکے امتحانات کے نتائج کو کالعدم قرار دیا جائے اور سندھ پبلک سروس کمیشن کے مقابلے کے امتحان 2003ءمیں نتائج کے پورے عمل کو جعلی اور غیرقانونی تصور کیا جائے۔

0 comments

Post a Comment

Followers

Video Post