Posted by M. Moosa Soomro Sunday, August 23, 2009

کرائے کے بجلی گھروں کی منظوری

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 1500میگاواٹ کے چار بجلی گھر لگانے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کو جائز قرار دیتے ہوئے وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ بجلی کے بحران کے خاتمے کے لیے کرائے کے بجلی گھر ہی واحد حل ہیں، اس لیے کہ پانی سے بجلی پیدا کرنے کے لیے 8 سے 10سال درکار ہیں، کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے لیے 6 سال اور تیل سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کی تعمیر کے لیے 3سال کا عرصہ درکار ہے۔ کرائے کے بجلی گھروں س¿ بجلی حاصل کرنے کے لیے صارفین پر 6 فیصد مزید بوجھ پڑ جائے گا۔ ملک میں بجلی کے بحران کے حل کے لیے موجودہ حکومت کی جانب سے کرائے کے بجلی گھر کی تجویز پر سخت تنقید کی گئی تھی لیکن حکومت نے اس تنقید کا نوٹس لیے بغیر کرائے کے بجلی گھروں کا سودا کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ حکمران اس مسئلے کو حل کرنے کی نیت بھی نہیں رکھتے اور اس کی اہلیت بھی ان میں نہیں ہے۔ اس طرح کے فیصلے یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان کے فیصلہ ساز حکمران طبقات کا ملک و قوم سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ ہم اس سے پہلے بھی یہ لکھ چکے ہیں کہ ایران سے بجلی کی فراہمی کا معاہدہ ہوسکتا ہی، اس کی پیش کش بھی سامنے آچکی ہے‘ لیکن امریکا اور عالمی مالیاتی ادارے کوئی ایسا کام کرنے کو تیار نہیں ہیں جس سے پاکستان اقتصادی طور پر مستحکم ہو اور آزادانہ فیصلے کرسکے۔ یہ سلسلہ معین قریشی کے زمانے سے جاری ہے۔ بے نظیر بھٹو کی گزشتہ حکومت میں نجی بجلی گھروں کی تعمیر اور غیر ملکی کرنسی میں مہنگی بجلی کے سودے نے پاکستان میں توانائی کا بحران پیدا کیا ہے۔ اب کرائے کے بجلی گھر کے مہنگے منصوبے کے ذریعے صرف اور صرف بجلی کے نرخوں میں اضافہ مقصود ہے۔

0 comments

Post a Comment

Followers

Video Post