Posted by M. Moosa Soomro Sunday, August 23, 2009

رشوت و بدعنوانی پاکستانی معیشت کے لیے سنگین خطرہ


ایک دور تھا جب راشی اور بدعنوان افراد کو ہمارے معاشرے میں نہایت بری نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، ایسے افراد سے میل ملاپ سے گریز کیا جاتا تھا‘ لوگ ان کے گھروں میں کھانا نہیں کھاتے تھے۔ بدعنوان افراد معاشرے سے کٹ کر تنہائی کا شکار رہتے تھے۔ انہیں معاشرے میں کوئی عزت نہیں دیتا تھا۔ رفتہ رفتہ ہمارے معاشرے سے اخلاقی قدروں کا صفایا ہوتا گیا۔ سیاستدانوں، بیوروکریٹس، سول اور ملٹری اہلکاروں میں بدعنوانی کا تناسب بڑھتا گیا۔ پھر ایک ایسا وقت بھی آیا کہ پاکستان کا شمار دنیا کے کرپٹ ترین ممالک میں ہونے لگا۔ آج صورت حال یہ ہے کہ ریلوی، واپڈا، اسٹیل مل، پی آئی اے سمیت حکومت کے تمام اداروں کو کرپشن اور اقربا پروری کی دیمک چاٹ گئی ہے۔ راشی افراد اب معاشرے کے ”معززین“ میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ کرپٹ اور بدعنوان عناصر ہماری سیاست، معیشت اور تعلیم کا حصہ بن چکے ہیں۔ حال ہی میں جسٹس بھگوان داس اور نیب کی منظرعام پر آنے والی رپورٹوں اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی سروے رپورٹوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بدعنوانی کس بری طرح سے ہمارے معاشرے میں سرایت کرگئی ہے۔ جسٹس بھگوان داس اور نیب کی رپورٹ کے مطابق آئل انڈسٹری اور حکومتی عناصر کی ملی بھگت نے قومی خزانے کو 83 ارب روپے کی رقم سے محروم کردیا۔ نیب کے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل(ر) شاہد عزیز نے سابق صدر پرویزمشرف اور سابق وزیراعظم شوکت عزیز کو ایک رپورٹ پیش کی تھی جس میں جون 2001ءسے جون 2006ءتک پٹرولیم قیمتوں کے میکنزم میں سنگین بدعنوانیوں کا ذکر تھا۔ صدر پرویزمشرف جو اپنی تقریروں میں اکثر نوازشریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے کرپشن میں ملوث ہونے کا ذکر کرتے نہیں تھکتے تھے‘ جب ان کی اپنی حکومت کے ذمہ داران کے متعلق کرپشن کی رپورٹ انہیں پیش کی گئی تو حیرت انگیز طور پر نہ صرف انہوں نے بدعنوان عناصر کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی سے گریز کیا‘ بلکہ الٹا جنرل (ر) شاہد عزیز کو نیب کی سربراہی سے سبکدوش کردیا گیا۔ نیب کی رپورٹ بعد ازاں جسٹس بھگوان داس کو پیش کی گئی۔ اس رپورٹ میں اس بات کا انکشاف تھا کہ پاکستان اسٹیٹ آئل اور حکومتی ذمہ داروں کی ملی بھگت سے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی درآمد اور فروخت میں جعل سازی اور سنگین بدعنوانیاں کی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق وفاقی کابینہ نے جون 2001ءمیں آئل کمپنیز مشاورتی کمیٹی کو تیل کی قیمتوں کے تعین کی ذمہ داری سونپی تھی۔ قیمتوں کے تعین کا یہ سلسلہ نہایت غیر شفاف اور بدعنوانیوں سے بھرپور تھا۔ شدید بدعنوانیوں اور ملی بھگت کے نتیجے میں جہاں ایک طرف عوام کو شدید مہنگائی کا بوجھ برداشت کرنا پڑا وہیں دوسری جانب آئل کمپنیوں شیل پاکستان، کالٹیکس اور پی ایس او کے منافعوں میں آسمانی شرح سے اضافہ ہوا۔ 2001ءسے 2005ءتک شیل پاکستان کے منافع میں 232 فیصد، کالٹیکس 281 فیصد اور پی ایس او کے منافع میں 232 فیصد کا اضافہ ہوا۔ اس سے بھی بڑھ کر اٹک ریفائنری کے منافع میں 4331 فیصد، نیشنل ریفائنری کے منافع میں 3578فیصد، پارکو کے منافع میں 1717فیصد کا بلند ترین اضافہ ہوا۔ پٹرولیم کی قیمتوں کے فارمولے کی بدولت ملکی خزانے کو 11ارب روپے کا نقصان ہوا جبکہ 34ارب روپے کا نقصان پریمیئم میں اضافے کی وجہ سے ہوا۔ وزارت پٹرولیم آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلر کے بے تحاشا منافع کو روکنے میں ناکام رہی۔ وزارت پٹرولیم کی غفلت اور عدم توجہی نے 2004ءاور 2006ءکے درمیان آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کو 9 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا۔ آئل کمپنیز مشاورتی کمیٹی نے حکومت کے ٹیکسوں خاص طور پر 15فیصد جنرل سیلز ٹیکس پر بھی کمیشن وصول کیا جس کی بدولت آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو 18ارب روپے کا فائدہ ہوا۔ اس ضمن میں عوامی اور قومی مفاد کو اس حد تک نظرانداز کیا گیا کہ زیادہ سے زیادہ 40 فیصد منافع کی حد ختم کردی گئی جس سے حکومتی خزانے کو 16ارب روپے کا نقصان ہوا۔ رشوت اور بدعنوانی پاکستان میں اس حد تک عروج پر ہے کہ ایک اندازے کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں اس میں 400 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پولیس کا محکمہ سب سے زیادہ کرپٹ سمجھا جاتا ہے جبکہ پاور سیکٹر دوسرے نمبر پر ہے‘ عدلیہ کو تیسرے نمبر پر کرپٹ ترین ادارہ سمجھا جاتا تھا‘ تاہم چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے اقدامات کی وجہ سے عدلیہ کا امیج بہت بہتر ہوا ہے اور عوام کا عدلیہ پر اعتماد بڑی حد تک بحال ہوا ہے۔2009ءمیں عدلیہ کا کرپٹ ترین اداروں میں 9واں نمبر ہے‘ امید ہے کہ جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں عدلیہ بدعنوان عناصر سے نجات حاصل کرلے گی۔ پاکستان میں ایک عام متوسط آمدنی کے حامل شخص کو سالانہ اوسطاً 9428 روپے رشوت دینی پڑتی ہے۔ رشوت اور بدعنوانی کے خلاف کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے 2009ءمیں ”قومی بدعنوانی تصورات“ پر ایک سروے کرایا تھا۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے صوبہ پنجاب اور بلوچستان میں رشوت میں کمی آئی ہے جبکہ سندھ میں اس میں اضافہ ہوا ہے۔ سندھ کے علاوہ صوبہ سرحد میں بھی بدعنوانی میں اضافہ ہوا ہے۔ صوبہ سرحد میں کرپشن میں 13فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سندھ میں 5 فیصد‘ پنجاب میں 9 فیصد جبکہ بلوچستان میں کرپشن میں 10فیصد کمی ہوئی ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق این آر او نہ صرف بنیادی انسانی حقوق بلکہ اقوام متحدہ کے کنونشن برائے انسداد بدعنوانی 2007ءکی بھی خلاف ورزی ہے۔ ادارے کے مطابق این آر او نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا امیج خراب کیا ہے۔ قومی اسمبلی 41کمیٹیاں بنا چکی ہے لیکن گزشتہ 17ماہ سے خصوصی پارلیمانی کمیٹی برائے اخلاقیات اور صوبائی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے اخلاقیات قائم نہیں کی گئیں۔ بدعنوانی اور کرپشن ایسا کینسر ہے جس نے پاکستانی معاشرے سے دیانت، حب الوطنی، خدا خوفی کا اگر خاتمہ نہیں کیا تو اسے بے حد کمزور ضرور کردیا ہے۔ بدعنوانی اور رشوت سرمایہ کاری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اور اس کی تصدیق ورلڈ بینک کی رپورٹ نے بھی کی ہے۔ پاکستان میں خواندگی کی شرح میں کمی اور بڑھتی ہوئی غربت کا ایک اہم سبب رشوت اور بدعنوانی بھی ہے۔ حکومت کو ملک سے بدعنوانی ختم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں‘ کیونکہ شفاف نظام ہی ملک میں معاشی استحکام، خوشحالی اور ترقی لاسکتا ہے۔ کرپٹ اور بدعنوان نظام کی موجودگی میں معاشی ترقی‘ اقتصادی خوشحالی اور خودکفالت کا حصول محض ایک خواب ہی رہے گا۔

0 comments

Post a Comment

Followers

Video Post